ادھوری تصویریں

قلمکار کی منتخب کردہ نظمیں، غزلیں اور ڈیزائن کی ہوئی شاعری یہاں پر ملاحظہ کریں۔

خواب بھی اچھے ہوتے ہیں

مجھے یاد ہے اک بار تم نے مجھے کہا تھا. . . خواب بھی اچھے ہوتے ہیں تعبیر ضروری ہوتی ہے مگر انکو تم پورا کرتے ذہن میں رکھنا میری بات کہ . . . کوئی ساتھ ضروری ہوتا ہے ! تھپکی دے کر حوصلہ دینے یا پھر

Read More

تو میرا ہے

تو میرا ہے تیرے من میں چھپے ہوئے سب دکھ میرے ہیں تیری آنکھ کے آنسو میرے تیرے لبوں پہ ناچنے والی یہ معصوم ہنسی بھی میری تو میرا ہے ہر وہ جھونکا جس کے لمس کو اپنے جسم پہ تو نے بھی محسوس کیا ہے پہلے

Read More

میرے وہ ارمان لوٹا دو

ایک سو سولہ چاند کی راتیں ایک تمہارے کاندھے کا تل گیلی مہندی کی خوشبو جھوٹ موٹ کے شکوے کچھ جھوٹ موٹ کے وعدے بھی سب یاد کرا دو سب بھجوا دو میرا وہ سامان لوٹا دو ایک دفعہ وہ یاد ہے جب بن بتی کے

Read More

تم جیسی ہے

صبح کی دھوپ دھلی شام کا روپ فاختاؤں کی طرح سوچ میں ڈوبے تالاب اجنبی شہر کے آکاش اندھیروں کی کتاب پاٹھ شالا میں چہکتے ہوئے معصوم گلاب گھر کے آنگن کی مہک بہتے پانی کی کھنک سات رنگوں کی دھنک تم کو

Read More

نہ یاد کر کہ جسے بھولنے کی عادت ہے​

چلو وہ عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے​ پہ کیا کریں ہمیں‌ ڈوبنے کی عادت ہے​ ​ تو اپنی شیشہ گری کا ہنر نہ کر ضائع​ میں آئینہ ہوں‌مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے​ ​ میں کیا کہوں کہ مجھے صبر کیوں نہیں آتا​ میں کیا

Read More

ہماری دسترس میں کیا نہیں ہے

ہماری دسترس میں کیا نہیں ہے مگر کوئی ترے جیسا نہیں ہے وہ کیا خواب محبت تھا ، کہ ہم نے پھر اس کے بعد کچھ دیکھا نہیں ہے ابھی اس ابر سے آنکھیں ہیں خالی ابھی اس یاد نے گھیرا نہیں ہے نہیں اوڑھی رداے

Read More

یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب

یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو ایسا نہ ہو یہ درد بنے دردِ لا دوا ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو شاید تمہیں بھی چین نہ آئے مرے بغیر شاید یہ بات تم

Read More

کچھ دیر پہلے نیند سے

اکثر شبِ تنہائی میں کچھ دیر پہلے نیند سے گزری ہوئی دلچسپیاں بیتے ہوئے دن عیش کے بنتے ہیں شمعِ زندگی اور ڈالتے ہیں روشنی میرے دلِ صد چاک پر وہ بچپن اور وہ سادگی وہ رونا وہ ہنسنا کبھی پھر وہ جوانی

Read More

تمھاری یاد کا موسم

کوئی موسم ہو دل میں ہے تمھاری یاد کا موسم کہ بدلا ہی نہیں جاناں تمھارے بعد کا موسم نہیں تو آزما کے دیکھ لو کیسے بدلتا ہے تمھارے مسکرانے سے دِلِ ناشاد کا موسم سب ورق تیری یادوں کے صدا تیشے سے جو

Read More

اُسی کا رہا

یہ میں بھی کیا ہوں، اُسے بھول کر اُسی کا رہا کہ جس کے ساتھ نہ تھا، ہم سفر اُسی کا رہا وہ بُت کہ دشمنِ دِیں تھا بقول ناصح کے سوالِ سجدہ جب آیا تو در اُسی کا رہا ہزار چارہ گروں نے ہزار باتیں کیں

Read More