تو چپ ہی رہنا

کسی بشر میں ہزار خامی اگر جو دیکھو تو چپ ہی رہنا کسی بشر کا جو راز پاؤ یا عیب دیکھو تو چپ ہی رہنا اگر منادی کو لوگ آئیں تمہیں کُریدیں تمہیں منائیں تمہاری ہستی کے گیت گائیں تمہیں کہیں کہ بشر میں

Read More

یہ سجدہٓ سرِ مقتل کا وقت ہے محسنؔ

مجھے خلا میں بھٹکنے کی آرزو ہی سہی کہ تُو ملے نہ ملے تیری جُستجو ہی سہی قریب آشبِ تنہائی ‘ تجھ سے پیار کریں تمام دن کی تھکن کا علاج تُو ہی سہی بڑے خلوص سے ملتا ہے ‘ جب بھی ملتا ہے وہ

Read More

تم کو لگتا ہے بھول جائیں گے!!

تم کو لگتا ہے بھول جائیں گے!! یہ تنفر،یہ جھوٹ،یہ لہجہ، ہم سے سادہ مزاج لوگوں کا المیہ۔۔۔ایک ہی تو ہے پیارے جس کو چاہو تو ٹوٹ کر چاہو۔۔۔ جس سے روٹھو، تو نام تک نہ لو۔۔۔ دوستی،پیار،حب اور عشق ایک

Read More

سرابوں کی طرح

چند الجھے سے سوالوں کے جوابوں کی طرح وہ جو خوابوں میں بھی آئیں توسرابوں کی طرح جان پائے نہ کوئی چند ملاقاتوں میں بند رکھتے ہیں سدا خود کو کتابوں کی طرح ہر خماری کا سبب جام کہاں ہوتا ہے

Read More

کسی کو کیا بتاتا میں

کسی کو کیا بتاتا میں کسی کو کیا سُناتا میں بہت لمبی کہانی تھی بہت غمگیں فسانے تھے بہت گہری محبت تھی بہت کم ظرف لوگوں سے بہت مظبوط رشتے تھے بہت کمزور لوگوں سے وہ سب نظروں کا دھوکہ تھا وہ جادوگر

Read More

دوستی میں… کیا خسارہ دیکھنا!

دوستی میں… کیا خسارہ دیکھنا! جو بھی ہو گا … بس … نظارہ دیکھنا! دیکھنا کیا ہے؟ فقط بس … دیکھنا؟ کیا ہمارا … کیا تمہارا دیکھنا دیکھتے ہوتم … ہمیں پردے میں جو

Read More

تم اک گورکھ دھندا ہو ۔ ناز خیالوی

تمہاری دید کی خاطر کہاں کہاں پہنچا غریب مٹ گئے ، پامال ہو گئے لیکن کسی تلک نہ تیرا آج تک نشاں پہنچا ہو بھی نہیں اور ہر جا ہو تم اک گورکھ دھندہ ہو تم اک گورکھ دھندہ ہو ہر ذرے میں کس شان سے تو جلوہ

Read More

تیرے مُسکرانے کا شُکریہ

یوں راہِ وفا کی صلیب پر دو قدم اُٹھانے کا شُکریہ بڑا پُر خطر تھا یہ راستہ ، تیرے لوٹ جانے کا شُکریہ جو اُداس ہیں تیرے ھِجر میں ، جنھیں بوجھ لگتی ہے زندگی اُنہیں دیکھ کر سرِ بزم یوں ، تیرے منہ

Read More

دل مضطرب

دل مضطرب کوئی اسم ہو جسے پڑھ کے کم ہو ملالِ جاں جسے پھونک کر یہ اداسیاں ذرا کم لگیں وہ فشارِ رنج ہے روح میں کہ فضائیں سبز قدم لگیں میں ہنسوں تو سارے جہان کو مری ہنستی آنکھیں بھی نم لگیں دلِ مضطرب

Read More

دل بھی کوئی آسیب کی نگری ہے

وہ لوگ ہی قدموں سے زمیں چھین رہے ہیں جو لوگ میرے قد کے برابر نہیں آتے . اک تم کہ تمہارے لیے میں بھی میری جاں بھی اک میں کہ مجھے تم بھی میسر نہیں آتے . جس شان سے لوٹے ہیں گنواکر دل و جاں ہم اس طور

Read More