مٹی دا اک پُتلا…

مٹی میری فرض عبادت مٹی نفل شبینہ مٹی دے میں دِیوے بالاں مٹی نُور خزینہ مٹی میرے علم دا منبہ مٹی حرف لکیراں مٹی تُوں میں سب کجھ سکھیا مٹی مرشد پیراں مٹی میرا زیور گہنا مٹی کپڑے لتے مٹی لفظ،

Read More

میری نیند آ.. میری بات سُن

میری نیند آ.. میری بات سُن میری التجاء، میری آہ سُن… میری آنکھ کے سبھی راستے تیری آہٹوں کو ترس گئے تیری راحتوں کو ترس گئے تیری بے رخی کی ہے انتہا تیرے ہجر میں کٹی رات سُن میری نیند آ…

Read More

چلو اُس شہر جاتے ہیں

چلو اُس شہر جاتے ہیں چلو اُس شہر جاتے ہیں چلو تقدیر کو پھر آزماتے ہیں چلو ہم ریت سے پیروں کے جا کر نقش چُنتے ہیں ہواؤں پر لکھی سرگوشیوں کو آج سُنتے ہیں چلو پلکوں سے ، نیلے اورسنہرے ریشمی سے خواب

Read More

محبت رُت میں لازم ھے

محبت رُت میں لازم ھے بہت عُجلت میں یا تاخیر سے وہ مرحلہ آئے کوئی بے درد ھو جائے محبت کی تمازت سے بہت بھرپُور سا لہجہ اچانک سرد ھو جائے گُلابی رُت کی چنچل اوڑھنی بھی زرد ھو جائے تو ایسے موڑ پر

Read More

آؤ ساجن سے ملواؤں

آؤ ساجن سے ملواؤں بات ثواب کی لگتی ہے رنگ گلابی، مہکا مہکا ؟ بات گلاب کی لگتی ہے چال صبا سے ملتی جلتی ؟ بات شراب کی لگتی ہے دیکھے زیادہ ، بولے کم کم ؟ بات حساب کی لگتی ہے ہاتھ پہ رکھا ہاتھ اچانک؟

Read More

اے خدا! تیرے بندے ہیں ہم

اے خدا اے خدا تیرے بندے ہیں ہم ہم گناہگار ہیں ہم سیاہ کار ہیں اے خدا اے خدا اے خوشی کی دھنک رحمتوں کے فلک زندگی تو نے دی، آگاہی تو نے دی جب اندھیرے ہوئے، روشنی تو نے دی تو نے مٹی کو بھی کر دیا

Read More

محبت گم نہیں ہوتی

محبت گم نہیں ہوتی یہ بس شکلیں بدلتی ہے کبھی غیروں سے ہوتی ہے کبھی اپنوں سے ہوتی ہے کبھی مانوس چہروں سے کبی سپنوں سے ہوتی ہے . کبھی محبوب سے اور پھر کبھی ویران راھوں سے کبھی اجڑے ہوۓ لمحوں کی

Read More

وہ لمحہ کیسا لمحہ تھا

وہ لمحہ کیسا لمحہ تھا جب اسکی بنجر آنکھوں میں خوابوں کی گیلی قبروں پر سکھیوں نے راکھہ بکھیری تھی وہ لمحہ کیسا لمحہ تھا ..؟؟ . جب اس کے بکھرے بالوں میں بستی کے نیک عزیزوں نے نمناک لبوں سے چھڑکا

Read More

خطا کچھ بھی نہیں

ہم ہی ٹھہرے ہیں سزا وار ، خطا کچھ بھی نہیں​ توسمجھتا ہے ترے بعد ہوا کچھ بھی نہیں​ یاد جب آئی تری، یاد رہا ، کچھ بھی نہیں​ دل نے بس آہ بھری اور کہا کچھ بھی نہیں​ وقت کی طرح یہ سانسیں بھی رواں ہیں

Read More

محبت خواب جیسی ہے

کسی بھی آنکھ کی پُتلی پہ چُپکے سے اُترتی ہے، نشاں سا چھوڑ جاتی ہے یقیں کے رنگ دھندلا کر گماں سا چھوڑ جاتی ہے محبت کا کوئی کلیہ، کوئی قانون لوگوں کی سمجھ میں آ نہیں سکتا کوئی بھی اس کے گہرے بھید

Read More