چند ٹوٹے ہوئے الفاظ اور کچھ یادیں

چند ٹوٹے ہوئے الفاظ اور کچھ یادیں
اگرچہ میرا قلم اور قرطاس سے تعلق اس وقت سے ہے جب میں نے پہلی بار مڈل کلاس میں ہوتے ہوئے قلم اٹھایا تھا اور نونہال کے ایڈیٹر جناب مسعود احمد برکاتی کو ایک کہانی کی صورت میں اپنی کاوش ارسال کی۔ کہانی اگرچہ چھپنے کے قابل نہیں تھی مگر مسعود احمد برکاتی صاحب کے حوصلہ افزائی کے خط نے شاید اس رشتے کو جلا بخشی۔ اس کے بعد مختلف ادوار ۤآتے رہے ۔ پھول اور کلیاں کے سلیم ناز صاحب کے ساتھ جو پہلا قدم اٹھایا اس کے بعد آج میں پلٹ کر دیکھتا ہوں تو بائیس سال کا عرصہ گزر چکنے کا صدمہ اس صورت میں ہوتا ہے کہ اتنے سالوں بعد بھی میں نے شاید اردو ادب کی وہ خدمت نہیں کر پایا جو دوسرے ہم عصر کر رہے ہیں۔ ان میں جناب عاطر شاہین ، جناب عمران ممتاز، جناب ندیم اختر، جناب شعیب مرزا ، جناب کمال ایوب صدیقی ، محترمہ مریم جہانگیر ، جناب عرفات ظہور ، جناب زبیر ارشد، جناب مظہر نواز صدیقی اور کتنے ہی ایسے دوست جن کے نام مجھے ابھی یاد نہیں آ رہے ہیں ۔ وقت کے دھارے نے کب دنیا ک جھمیلوں میں دھکیل دیا اور وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔
کبھی قلمکار کی شکل میں نیوز لیٹر ہو یا پھر لکھاری کی صورت میں ایک کتابچہ ، لکھاری آن لائن کی صورت میں ویب ہو یا پھر ابھی یہ قلمکار کا بلاگ ۔ ان سب باتوں کا مقصد صرف ایک ہی رہا ہے کہ کسی بھی طرح سے ادب اور ادیبوں سے ناطہ جڑا رہے ۔ مگر افسوس رہا ہے کہ ہر بار مصروفیات نے ہاتھ کھینچ لینے پر مجبور کر دیا ۔ اب دیکھئے کہ اس بلاگ کے ساتھ کیا ہوتا ہے امید ہے کہ یہ مجھے قلم اور قلمکاروں سے جوڑے رکھے گا۔
اب جب میں یہ الفاظ لکھتے ہوئے محسوس کر رہا ہوں کہ یہ کام بہت پہلے ہو سکتا تھا شاید اس طرح میرا قلم و قرطاس سے جو ٹوٹا ہوا تعلق پھر سے جوڑ سکتا تھا۔ چلیں خیر دیر آید درست آید ۔
اس بلاگ لکھنے کا مقصد کچھ نہیں ہے سوائے اس کے اپنے زندگی کے تجربات ، اپنی رائے کو یہاں بیان کیا جا سکے۔ ویسے تو میں اس قابل نہیں ہوں کہ کوئی میرے تجربات سے کچھ خاص سیکھ پائے گا مگر پھر بھی "شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ” کے مصداق اپنی بات کہنے کےلئے یہ ایک اچھا ذریعہ ہے ۔
کوشش تو یہی ہے کسی نہ کسی موضوع پر قلم اٹھا کر کچھ قلمکاریاں کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے ۔ انشاء اللہ آپ قلمکار کی قلمکاریاں یہاں گاہے بگاہے دیکھے رہیں گے ۔ ایک شعر سب دوستوں کی نذر کروں گا کہ ۔
یہ سنگریزے عداوتوں کے وہ آبگینے سخاوتوں کے
دل مسافر قبول کر لے ملا ہے جو کچھ جہاں جہاں سے
اپنے رائے سے ضرور نوازتے رہیے گا ۔ تاکہ مجھے اس بات کا علم رہے کہ میرا قلم کس حد تک ابھی بھی لکھنے کے قابل ہے یا وقت کی لہروں نے اس کو بھی زنگ آلود کر دیا ہے ۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.