💛🍂 آہ وہ رومانٹک منظر 🍂💛

💛🍂 آہ وہ رومانٹک منظر 🍂💛

آپ میں سے بہت سوں نے وہ مناظر دیکھے نہیں ہوں گے ، جب پانی بھر کر لانے کیلۓ مرد و خواتین کنوؤں ، چشموں اور دریاؤں پر جاتے تھے ، ہمارے ہاں کنوؤں سے جو کہ ہر چھوٹی بڑی مسجد میں اور پھر چند ایک گھروں میں ہوا کرتے تھے ، پانی بھر کر لایا جاتا تھا کہ ان وقتوں میں پانی کے نلکوں ( ٹیپ ) کا وجود نہیں تھا ۔

نوجوان دن کے اوقات میں مسجد کے کنوؤں سے پانی بھرتے جبکہ عشاء کی نماز کےبعد رات گیۓ تک کا ٹائم صرف خواتین کیلۓ مختص ہوتا تھا ، البتہ چند ایک گھروں میں جو کنوؤے تھے وہ دن بھر خواتین کیلۓ کھلے ہوتے تھے ۔

اردو شاعری میں پانی بھر کر لانے والے مٹی کے برتن کو گھاگر اور جہاں سے تاذہ پانی بھر کر لایا جاتا تھا ، کو پنکھٹ کہا جاتا تھا ۔ ماضی کے اس رومانٹک ایونٹ کیلۓ چند اشعار پیش خدمت ہیں

 

ہر روز چھلکتی ہے نۓ نۓ انداز کے ساتھ

زندگی ہے سر پر پانی کے گھاگر کی طرح

وہ پنکھٹ وہ گھاگر ، پھر کبھی نہیں دیکھے

میں نے دیکھا تھا اسے آخری منظر کی طرح

۔

پنجابی گیت

 

میں ماہی دے کھو چوں پانڑی دا

گھڑا چول چول کے بھرنی آں

💛🍂💛

Facebook Comments

POST A COMMENT.