🕰 زمانہ ء گمگشتہ 🕰

خبریں
207
0

🕰 زمانہ ء گمگشتہ 🕰

 

وقت کی روانی ، سفر مسلسل کی طرح جاری ہے ۔ ہمیں بظاہر یہ لگتا ہے کہ صرف ہم ہی حرکت میں ہیں یا ہمارے ارد گرد ہی کچھ چیزیں متحرک ہیں ، حالانکہ کائنات کی ہر چیز ہی کسی نہ کسی بنیاد پر محو سفر ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہر مادی شے میں تبدیلی رونما ہورہی ہے ۔

ہر گزرے دن کے ساتھ استعمال کی پرانی چیزیں متروک ہوکر بلکل نئی یا کسی جدید شکل میں ڈھل کر ہمارے زیر استعمال آرہی ہیں ۔ چند دھائیوں بعد تو ہم ان چیزوں کو بھول ہی چکے ہوتے ہیں کہ یہ چیزیں بھی کبھی ہمارے استعمال میں رہی ہوں گی ۔

گیس کے اس ہنڈے کو ہی دیکھ لیں کہ چند دھائیاں پہلے یہ اکثر گھروں میں موجود ہوا کرتا تھا ۔ دیہاتوں میں جہاں بجلی کی سہولیات مفقود تھیں ، وہاں گھروں میں لالٹین استعمال ہوتیں مگر شادی ، ماتم یا کسی بھی اجتماہی ایونٹ میں رات کو گیس کے یہ ہنڈے ( جو ہمارے ہاں "گیس” کے نام سے ہی مشہور تھے )وسیع تر روشنی کے لیۓ کام میں لاۓ جاتے تھے ، جس محلے میں رات کا کوئی فنکشن ہوتا ، محلے کے جن لوگوں کے گھر میں موجود ہوتا وہ سب یہ ” گیس ” ساتھ لاتے اور یوں چند ہنڈے جلتے تو ماحول سفید روشنی سے جگمگانے لگ جاتا ۔ ان میں مٹی کا تیل ڈلتا تھا جو اس دور میں بہت سستا تھا ، مٹی کا تیل ڈال کر اس ہنڈے میں ہی لگے پمپ سے گیس بھری جاتی تھی ، جس کی مقدار برابر رکھنے کیلۓ اس پر ایک میٹر نما گیج ہوتا تھا ۔ مٹی کا تیل گیس کے ساتھ پریشر سے شیشے کے چوکٹھے کے اندر لگے منٹل کو روشن کرتا، جو شوں شوں کی تیز آواز کے ساتھ جگمگانے لگتا اور تیز سفید روشنی دور دور تک پھیل جاتی ۔ مگر یہ ہنڈا بھی جو کبھی ہر گاؤں کی ضرورت تھا ، اب دور کہیں ماضی کا حصہ بن چکا ہے ۔

۔

 

اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا

ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

( بشیر بدر )

۔

اب کے وقت اس قدر تیزی سے گزر گیا

کہ یادیں بھی ٹھیک طرح سے رقم نہ ہو سکیں

( نامعلوم )

🍁🥀🍁🥀🍁

Facebook Comments

POST A COMMENT.