اردو زبان اور آداب

مزاح
238
0
ایک خاتون نے اردو زبان اور آداب سیکھنے کے لیے ایک استاد کی خدمات حاصل کیں۔ استاد نے کئی ماہ کی محنت کے بعد خاتون سے کہا کہ میں نے آپ کو جو تربیت دی ہے، کل اس کا امتحان ہوگا۔ میں نےایک معروف اہل زبان شاعر کو چائے پر بلایا ہے، آپ کل ان کی میزبانی کیجیے گا اور یاد رہے کہ معزز مہمان نہایت خوش گفتار اور شائستہ اطوار کے مالک ہیں، لہٰذا اب میری عزت آپ کے ہاتھ ہے۔ خاتون نے استاد محترم کو یقین دلایا کہ وہ نہایت خوش خلقی اور شائستگی کا مظاہرہ کریں گی۔ اگلے روز مہمان تشریف لائے، استاد محترم نے تعارف کے فرائض انجام دئیے۔ میزبان خاتون نے نہایت تپاک سے استقبال کیا، خیریت دریافت کی۔ مہمان نے استفسار کیا:
محترمہ! آپ کے شوہر نامدار کیا شغل فرماتے ہیں؟
خاتون نے جواب دیا: حضور! ان کی وسیع زمینداری ہے، آج بھی اسی سلسلے میں چند حل طلب امور کی انجام دہی کے لیے گئے ہوئے ہیں، ابھی تشریف لاتے ہی ہوں گے۔
مہمان نے مزید استفسار کیا: آپ کے آنگن کے پھول نظر نہیں آرہے۔
خاتون نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے ایک بہت نیک اطوار بٹیا رانی عطا کی ہے۔ میں ابھی اسے آپ کی قدم بوسی کے لیے بلاتی ہوں۔
خاتون نے بیٹی کو آواز دی: گڑیا بیٹا، یہاں آئیے، چچا جان کو آداب کیجیے۔
کچھ دیر گزر گئی، نہ جواب آیا اور نہ گڑیا آئی۔
خاتون نے پھر آواز دی: گڑیا بیٹا! جلدی آئیے، چچا حضور آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔
پھر جواب ندارد۔
خاتون کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا: گڑیا! فوراً باہر آؤ۔
پھر خاموشی۔
پیمانہ چھلک پڑا: نی گڈو! کتھے مر گئیں ایں؟
باہر آکے مر ۔۔۔ تیرے پیو دا نوکر اڈیکن ڈیا اے ۔۔۔۔

#لکھاریاں,
#قلمکاریاں,
#فنکاریاں,
#اردو_ادب,
#اردو_شاعری,
#اردو_کی_بہترین_شاعری،
#بزم_سخن،
#اہل_سُخن،
#بزمِ_احباب،
#قلمکار،
#قلمکار_سٹوڈیو

اُردو ادب ، اردو شاعری ، اردو نثر پر بہترین ویڈیوز حاصل کرنے کےلئے ہمارا چینل سبسکرائب کریں
قلمکار سٹوڈیو ۔ اردو ادب میں انفرادیت کا معیار

https://www.youtube.com/channel/UCvLqVBigQH-opDYMn5Nw_wg
https://www.facebook.com/QalmkarStudio
https://www.pinterest.com/kalmkar786/qalmkar-studio
https://www.facebook.com/LikhariOnline
https://www.instagram.com/qalmkarstudio

Facebook Comments

POST A COMMENT.