میراثی نے نئی گرم چادر لی
اور کندھے پہ رکھکر گاؤں کی چوپال میں جا بیٹھا
نمبردار نے چادر دیکھی تو اپنے بیٹے کی بارات میں استعمال کے لئے مانگ لی
بارات گاؤں سے نکلی تو چادر دلہے کے کندھے پر تھی
بارات کو دیکھ کہ ایک شخص نے پوچھا
بارات کِہندی اے؟
میراثی جھٹ سے بولا
بارات نمبرداراں دی اے تے!
چادر میری اے
چودھری کے لوگوں نے میراثی کی دھلائی کر دی کہ یہ بتانے کی کیا ضرورت تھی؟
بارات تھوڑی اور آگے گئی
تو سامنے آتے ایک شخص نے پوچھا
بارات کِہندی اے؟
میراثی جلدی سے بولا
بارات نمبرداراں دی اے تے!
چادر وی اوہناں دی اپنی اے
ایک دفعہ پھر پھینٹی پڑی
کہ تو نے تو اس طرح بول کر لوگوں کو چادر کے بارے جان بوجھ کر شک ڈال دی
اب جو تیسری مرتبہ راستے میں پھر کسی نے پوچھا! کہ اتنی شاندار بارات کس کی ہے؟
تو میراثی نے پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جواب دیا
کہ بارات تو نمبرداروں کی ہے!!
لیکن چادر دا مینوں بالکل وی نہیں پتہ
میراثی کو پھر مار پڑی!!
کہ اس معاملے میں آئندہ منہ کھولنے کی ضرورت نہیں
بارات پھر چل پڑی
کچھ دور جا کے ایک بزرگ کھڑے تھے
انہوں نے پوچھا!
بارات کِہندی اے؟
میراثی سسکتے ہوئے بولا
نا مینوں بارات دا پتہ اے
نہ ای چـــــــادر دا
#لکھاریاں,
#قلمکاریاں,
#فنکاریاں,
#اردو ادب,
#اردو شاعری,
#اردو غمگین شاعری,
#اردو بہترین شاعری ,
#محبت مافیا,
#نمود عشق,
#ادب کا سفر,
#بزم شاعری,
#محفل سخن,
#رونق شاعری ,
#فروع سخن,
#اردو زبان ,
اُردو ادب ، اردو شاعری ، اردو نثر پر بہترین ویڈیوز حاصل کرنے کےلئے ہمارا چینل سبسکرائب کریں۔
قلمکار سٹوڈیو ۔ اردو ادب میں انفرادیت کا معیار
https://www.youtube.com/channel/UCvLqVBigQH-opDYMn5Nw_wg/
POST A COMMENT.