ہندو

لفظ ہندو ابتداً صرف ایک جغرافیائی اصطلاح تھی اور زمانہ قدیم میں اس سے مراد وہ خطۂ زمین تھا
جو سات دریاؤں یعنی ستلج، بیاس، راوی، چناب، جہلم، سندھ اور سرسوتی سے سیراب ہوتا تھا
اس خطے کا نام ان سات دریاؤں کی رعایت سے شروع میں سپتہ سندھو تھا
سنسکرت میں سپتہ کے معنی ہیں سات اور سندھو کے معنی ہیں زمین، علاقہ یا دیش
قدیم ایرانیوں نے سپتہ سندھو کو ہفتہ ہندو کر لیا
کیونکہ سنسکرت کا سین ان کے یہاں عام طور پر ھائے ھوز سے بدل جاتا ہے
چنانچہ بہت سے قدیم سنسکرت الفاظ مثلاً شانتی، واسا، سوما اور اسورا وغیرہ قدیم ایرانی میں علی الترتیب ھانتی، واھا، ھوما اور اھورا کی شکل میں ملتے ہیں
یہی سپتہ سندھو کے ساتھ ہوا
پہلے یہ ہفتہ ہندو ہوا، پھر مختصر ہو کر ہندو رہ گیا
چنانچہ قدیم ایرانیوں کے نزدیک ہندو کسی مذہب یا قوم کا نہیں بلکہ ایک جغرافیائی حد بندی کا نام تھا اور اس کی حدود کے اندر رہنے والے سارے باشندوں کو ہندو کہتے تھے
لغات میں لفظ ہندو کے معنی ڈاکو، غلام، چور اور سیاہ رنگ کے بھی ملتے ہیں
شیخ سعدی نے گلستان کی ایک حکایت میں لکھا ہے کہ:
دو ہندو از مکین گاہ کردہ بر ما ہجوم آوردہ
اس فقرے میں ہندو کے معنی ڈاکو اور چور ہیں
لفظ ہندو کے یہ معنی اردو فارسی کی ساری مستند لغات میں آئے ہیں
(حالانکہ مجھے یہ معنی لغات میں نہیں ملے)
حفظ شیرازی کا یہ شعر بہت مشہور ہے:
ـمذہب یا قوم کے معنوں میں یہ لفظ فارسی ادبیات یا کسی اور زبان میں نظر نہیں آتا
خود پنڈت جواہر لال نہرو کا بیان ہے کہ کسی خاص مذہب یا مذہب کے ماننے والوں کے لیے ہندو کا لفظ پرانی کتابوں میں نہیں ملتا ہے
انھوں نے ہندو اور ہندوازم کے الفاظ پر تفصیل سے بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان معنوں میں:
ہمارے قدیم ادب میں ہندو کا لفظ کہیں بھی نہیں آیا
دریائے سندھ کا پرانا نام سندھو ہے اور یہ لفظ اسی (سندھو) سے نکلا ہے
اسی لفظ سندھو سے آگے چل کر ہندو اور ہندوستان، انڈوس اور انڈیا کے الفاظ بنے
ہندو کے لفظ کو ایک خاص مذہب کے لیے استعمال کرنے کا رواج بہت بعد میں ہوا
ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی کتاب
ہندی اردو تنازع سے ایک اقتباس
#لکھاریاں
#قلمکاریاں
#فنکاریاں
#اردو ادب
#اردو شاعری

Facebook Comments

POST A COMMENT.