امن اورآشا

میں نے جب سنا کہ بیوپاریوں کا ایک خیر سگالی گروپ ہندوستان جارہا ہے، مجھے تب خیال آیا کہ کیوں نہ میں بھی بیوپاریوں کے خیرسگالی وفد میں شامل ہوجاؤں اور آشا کو دیکھ آؤں۔ یہ کوئی پہلا وفد نہیں تھا جو خیر سگالی دورے پر ہندوستان جارہا تھا۔ دانشوروں کے وفد بھی آئے دن ہندوستان جاتے رہتے ہیں، ادیبوں کے وفد بھی ہندوستان جاتے رہتے ہیں۔ میں نے ایک مرتبہ صنعت کاروں کے وفد کے ساتھ ہندوستان جانے کی ٹھانی تھی۔ وفد میں شامل کرنے سے پہلے صنعت کاروں کی کاروباری کمیٹی نے مجھے انٹرویو کے لیے بلایا تھا۔ میں اللہ سائیں کا آدمی ہوں۔ میرا حلیہ دیکھ کر کمیٹی کے ممبر انگشت بدنداں ہوگئے یعنی انہوں نے دانتوں میں انگلیاں دے دیں۔ زیادہ محوحیرت ممبروں نے اپنی انگلیاں چبا کر لہولہان کرڈالیں۔ کمیٹی کے ایک ممبر نے پوچھا ’’کیا تم جانتے ہو، اس خیر سگالی وفد میں صنعت کار ہندوستان جارہے ہیں؟ ‘‘
’’
جی ہاں۔ میں جانتا ہوں‘‘۔ میں نے کہا۔
’’
میں صنعت کاروں کے وفد میں شامل ہو کر ہندوستان جاکر آشا سے ملنا چاہتاہوں، میرا نام امن ہے‘‘۔
دوسرے ممبر نے پوچھا ’’کیا کرتے ہو؟ ‘‘
میں نے کہا’’بیکار ہوں‘‘۔
’’
اس وفد میں صرف صنعت کار ہی شامل ہوسکتے ہیں‘‘۔ ممبر نے کہا’’بیکار نہیں‘‘۔
تب میں نے کہا تھا’’پاکستان کی سب سے بڑی صنعت بیکاری ہے۔ اس لحاظ سے میں ایک بہت بڑا صنعت کار ہوں‘‘۔
انہوں نے مجھے کمیٹی روم سے باہر نکال دیا تھا۔ اس طرح کی نوبت پہلی مرتبہ نہیں آئی تھی۔ ایک مرتبہ پہلے بھی میں کوچے سے بے آبرو ہوکر نکالا گیا تھا۔ تب دانشوروں کا ایک خیر سگالی وفد ہندوستان جارہا تھا۔ وفد کے منتظم اعلیٰ سے جب میں نے رجوع کیا تو انہوں نے غور سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ’’دانشوروں کے اجلاس میں تمہیں میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا‘‘۔
میں نے کہا ’’میں اجلاسوں میں نہیں جاتا‘‘۔
منتظم اعلیٰ نے کہا ’’تمہیں کسی کتاب کی صورت میں بھی نہیں دیکھا‘‘۔
مجھے خاموش پاکر منتظم اعلیٰ نے پوچھا’’کیا تم نے کسی کتاب کا پیش لفظ لکھا ہے؟ کسی کتاب پہ تنقید کی ہے؟ ‘‘
میں نے جب نفی میں سر کو جنبش دی تب منتظم اعلیٰ نے مجھے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا’’تم نے یہ سوچا بھی کیسے کہ دانشوروں کے وفد میں تم شامل ہوسکتے ہو ارے تم تو گدھوں کے وفد میں شامل ہونے کے لائق نہیں ہو!‘‘۔
آشا سے ملنے کا جنون میرے سر پر سوار تھا۔ انہی دنوں کسی نے مجھے بتایا کہ ادیبوں کا ایک خیر سگالی وفد ہندوستان جارہا ہے۔ تم کوشش کرکے دیکھ لو۔ شاید وہ تمہیں اپنے ساتھ لے جائیں۔ وفد کے سربراہ نے مجھ سے پوچھا’’تمہاری کتاب مارکیٹ میں بکتی ہے یا تم خود لوگوں میں بانٹتے پھرتے ہو؟ ‘‘
میں ہکّا بکّا رہ گیا۔ کتاب کا مارکیٹ میں بکنا یا لوگوں میں بانٹتے پھرنا تو دور کی بات تھی، میں نے تو سرے سے کبھی کوئی کتاب لکھی ہی نہیں تھی۔ مجھے خاموش پاکر وفد کے سربراہ نے کہا’’کتاب کا بکنا معیوب فعل ہے۔ ہمارے وفد میں صرف ایسے ادیب شامل ہوسکتے ہیں جو اپنی کتاب خود شائع کرتے ہیں اور دوست احباب اور لوگوں میں بانٹتے پھرتے ہیں‘‘۔
وہاں سے نکل آنے کے بعد میں نے سوچا میں عام آدمیوں کے خیر سگالی وفد میں شامل ہوکر ہندوستان جاؤں گا اور آشا سے مل کر آؤں گا۔ بہت پاپڑ بیلنے اور بھاگ دوڑ کے بعد پتہ چلا کہ چونکہ عام آدمی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اس لئے وہ خیر سگالی وفد لے کر ہندوستان نہیں جاسکتے۔
سنا ہے کہ عنقریب بیوپاریوں کا ایک خیرسگالی وفد ہندوستان جارہا ہے۔ سوچتا ہوں بیوپاریوں کے وفد میں شامل ہوجاؤں۔ مگر میرے پاس بیچنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ میرے پاس محبتیں ہیں، خواب ہیں، امیدیں ہیں اور یہ چیزیں بیچی نہیں جاسکتیں۔

امر جلیل ۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی ، مورخہ ۲۴ اپریل ۲۰۱۲ء

منقول

#لکھاریاں

#قلمکاریاں

Facebook Comments

POST A COMMENT.