قدیم لکھنؤ کی گلیاں اور بازار

شہر لکھنؤ کے پرانے راستے اور وہی گلیاں تھیں جن کی تعمیر شاہی زمانے میں ہوئی تھی اور جو اس مشکل سے بنائی گئی تھیں کہ سارے محلے ایک دوسرے سے انہیں گلیوں کی وساطت سے مل جاتے تھے۔ صورت حال یہ تھی کہ ایک شخص گلیوں گلیوں ہوتا ہوا آباد شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتا تھا۔ مسافت کا لحاظ رکھتے ہوئے بعض گلیاں اتنی چوڑی بنائی گئی تھیں کہ ان میں سے گھوڑا گاڑی بآسانی نکل جائے لیکن خاصی تعداد ایسی گلیوں کی تھی جو قدرے چھوٹی تھیں اور ان سے بھی زیادہ تعداد بالکل چھوٹی چھوٹی گلیوں کی تھی۔ ایسی گلیاں اب بھی پرانے لکھنؤ میں بکثرت موجود ہیں۔ پیشہ وروں کے پیشوں سے جو گلیاں منسوب تھیں، وہ حقیقتاً تنگ اور چھوٹے چھوٹے محلے تھے۔ البتہ اپنی سہولت کے لیے لوگ گلیوں کو ملحقہ محلوں سے منسوب کر کے نامزد کر دیا کرتے تھے مثلاً کڑہ والی گلی، شاہ گنج کی گلی، ٹوریہ گنج کی گلی وغیرہ وغیرہ۔ ان کے علاوہ کچھ گلیاں اپنے یہاں کے کسی مقتدر باشندہ کے نام سے موسوم ہو گئی تھیں، لیکن لکھنؤ والے ایسی گلیوں کو ’’کوچہ‘‘ کے ساتھ احتراماً یاد کرتے تھے۔ یہ مقامات گلیاں نہیں کہلاتے تھے جیسے کوچہ میر انیس، کوچہ مرزا دبیر، کوچہ شاہ چھڑا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جو بات اب تک بہت یاد آتی ہے وہ ان گلیوں کی صفائی اور خوبصورتی تھی۔ ہر گلی بے حد صاف اور شفاف رہا کرتی تھی، روشنی کا بھی معقول انتظام رہتا تھا۔ لوگ آسانی اور اطمینان سے راستہ چلتے تھے۔ کبھی کسی کے گلی میں گر کر زخمی ہونے کی خبر سنی نہیں گئی۔
اس حسن انتظام میں سرکاری بندوبست سے زیادہ محلے والوں کی ہمدردانہ توجہ شامل رہا کرتی تھی۔ قریب قریب ہر گھر کے دروازے کے باہر کی طرف چراغ جلتا تھا تاکہ راہ گیروں کو سہولت فراہم رہے۔ اسی طرح گلیوں میں کوڑے کا انبار لگانا انتہائی بدتہذیبی اور بدکاری سمجھا جاتا تھا۔ محلے والے خود ایک دوسرے کا خیال رکھتے اور گلیوں کو صاف رکھنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ان راستوں اور گلیوں کے دونوں جانب شہریوں کے مکانات تھے اور اب بھی ہیں۔ نئی حکومت نے نئے نئے قانون بنائے اور ضابطے رائج کیے تو شہر کو خوشنام بنانے اور اس کی تعمیر جدید کرنے کی بھی فکر ہوئی۔ آبادی بڑھی، بھاری سواریاں چلنے لگیں، پالکی کی جگہ چوڑی چوڑی گاڑیوں نے حاصل کی اور چوڑی چوڑی سڑکیں بنانے کے منصوبے بروئے کار لائے گئے تو مکانات کھدنا شروع ہوئے کیونکہ ان کے انہدام کے بغیر تعمیر جدید ممکن ہی نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کارگزاری اور تعمیرِ جدید میں بکثرت چھوٹے چھوٹے مکانات مسمار ہوئے۔ بہت سے شریف گھرانے تباہ و برباد ہوئے۔ بے شمار لوگوں کو بے پناہ صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ منڈیاں عموماً اجناس یا ترکاریوں کی ہوتی ہیں۔
ترکاریوں کی منڈی کو لکھنؤ والے سبزی منڈی کہتے تھے۔ لکھنؤ میں ابتدا میں دو بڑی منڈیاں قائم ہوئی تھیں۔ ایک ڈالی گنج پار میں یعنی اس محلے میں جو دریائے گومتی کو پار کرنے کے بعد واقع ہے اور دوسری سعادت گنج میں۔ یہ منڈیاں شہر میں داخل ہونے کے بعد پورب اور پچھم کے علاقوں میں قائم کی گئی تھیں۔ غالباً دورِشاہی میں تیسری منڈی محلہ رکاب گنج میں وجود میں آ گئی تھی جو نئی سڑکیں بننے کے بعد قریبی محلہ بانڈے گنج میں منتقل کر دی گئی۔ ان منڈیوں میں عموماً تھوک فروشی ہوتی تھی جہاں سے دوسرے دکاندار ہی غلہ خریدتے اور اپنی اپنی دکانوں پر فروخت کرتے تھے۔ شہریوں کو منڈیوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ بڑے بڑے زمیندار اور راجہ اپنے اپنے علاقوں سے غلہ منگا لیتے تھے۔ لوگ اپنے اپنے محلوں کی دکانوں سے ترکاریاں خرید لیتے تھے لیکن زیادہ تر ایسا ہوتا تھا کہ ترکاری والے محلوں محلوں گشت کر کے ترکاریاں فروخت کر جاتے تھے۔ اس زمانے میں شعریت کا دور دورہ تھا۔ بازار میں سودا بیچنے والے بھی شعر و نغمہ میں آوازیں لگاتے تھے۔ ایک ککڑی بیچنے والا یہ صدا دیتا تھا: ’’لیلا کی انگلیاں ہیں، مجنوں کی پسلیاں ہیں!‘‘ یہی عالم قریب قریب ہر سودا بیچنے والے کا تھا۔ غلے کی منڈیاں ہوں یا سبزی منڈیاں، کوئی کاروباری خریداروں کو دھوکا نہیں دیتا تھا۔ قیمتوں کو بڑھا چڑھا کر بتانا عام دستور تھا جس سے ہر خریدار واقف تھا اس لیے ہر سودا خریدنے والا مول تول کرنے اور چکانے کا خوگر ہوتا تھا لیکن ایک بار دام طے ہو جانے کے بعد یہ اطمینان رہتا تھا کہ بیچنے والے نے اپنے مال کی جو تعریف کی ہے وہ حرف بہ حرف صحیح ہو گی۔
ترکاری منڈی میں باسی مال کو پانی چھڑک کر تازہ نہیں بتایا جاتا تھا۔ سبزی فروش تازہ ترکاری کو تازہ اور باسی کو باسی کہہ کر فروخت کرتا تھا۔ اسی طرح غلے کی منڈی میں اچھے اور خراب کی کبھی آمیزش نہیں ہوتی تھی۔ جس منزلت اور قسم کا سودا بتایا جاتا تھا وہ ویسا ہی ہوتا تھا۔ راست بازی اور صداقت پرستی ہمارے شہریوں کا شعار تھا اور انہیں شہریوں میں تاجر اور سودا بیچنے والے بھی شامل تھے۔ بازاروں کو تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک تو وہ چھوٹے چھوٹے بازارتھے‘ جو ہر محلے میں مستقل طور سے قائم تھے‘ یعنی یہ کہ کسی ایک جگہ پر متعدد دکانداروںکا اپنی اپنی دکانوں پر علیحدہ علیحدہ ہر قسم کا مال فروخت کرنا۔ ہر محلے میں ایسی دکانیں تھیں۔ دوسری قسم ان دکانوں کی تھی جو ہر محلے میں مہینے یا ہفتے میں ایک بار لگتی تھیں۔ دوسرے محلوں سے دکاندار آتے اور اپنے اپنے محلے کی مخصوص اشیا جو انہیں کی صنعت و حرفت سے متعلق ہوتیں فروخت کرتے تھے۔ ایسے بازار سے لوگ صرف اشتیاق میں سودا خریدتے تھے۔ بلاضرورت بھی چیزیں خریدی جاتی تھیں اور ارزانی کے زمانے میں خریداری کسی کو گراں نہیں گزرتی تھی۔ تیسری قسم ان بازاروں کی تھی جو کسی مخصوص موقع پر اور کسی مخصوص مقام پر سال میں عموماً ایک بار لائی جاتی تھیں۔
انہیں بازاروں کی سیر اور وہاں کا نظارہ کلچر کا اہم جزو تھا۔ ان بازاروں میں خریداری کے علاوہ سیروتفریخ بھی ایک مقصد ہوتا تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ اصل غرض سیروتفریح ہوتی تھی اور خریداریاں ضمناً ہو جایا کرتی تھیں۔ ایسے چھوٹے بازار اکثر لگتے تھے۔ مثلاً عید گاہوں میں عید الفطر اور عیدالضحیٰ کے مواقع پر، عاشورہ محرم اور چہلم کے دن کربلائے تال کٹورہ میں اور ہر میلے کے موقع پر مخصوص مقامات میں مثلاً بالے میاں کی یاد میں وکٹوریہ اسٹریٹ پر، ہولی کے دن گول دروازہ کے مقابل وکٹوریہ پارک میں، نہان کے دن دریا کے قریب والی سڑک پر۔ مذہبی تہواروں کے اجتماعات میں سنجیدگی اور متانت کا مظاہرہ ہوتا تھا لیکن میلوں کے موقع پر رنگ رلیاں ہی عین مقصد ہوتا تھا۔ دکان دار اپنی اپنی دکانوں کو انتہائی حسن و جمال کے ساتھ آراستہ کرتے تھے۔ عنبروعود کی خوشبوؤں سے فضا معطر ہوتی تھی۔ ہر سودا انتہائی تکلف سے لگایا جاتا اور سودے کے ظروف بڑے سلیقے سے سجائے جاتے۔ ہر دکان کو دیکھ کر اس کی طرف بڑھنے اور کچھ خرید لینے کو دل چاہتا تھا۔ پرانی معاشرت میں سگریٹ یا سگار کو کوئی مقام حاصل نہیں تھا لیکن حقہ ہر محفل میں پھر بھی لازمی جزو ہوا کرتا تھا۔ ان بازاروں میں لوگ حقے لیے ہوئے گھومتے اور شیدائیوں کو دو دو کش پلاتے تھے۔ ایسے لوگوں کو ساقی کہا جاتا تھا۔
منقول از مرزا جعفر حسین
#قلمکاریاں
#لکھاریاں

Facebook Comments

POST A COMMENT.